EN हिंदी
سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں | شیح شیری
sochte hain to kar guzarte hain

غزل

سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں

پروین فنا سید

;

سوچتے ہیں تو کر گزرتے ہیں
ہم تو منجدھار میں اترتے ہیں

موت سے کھیلتے ہیں ہم لیکن
غیر کی بندگی سے ڈرتے ہیں

جان اپنی تو ہے ہمیں بھی عزیز
پھر بھی شعلوں پہ رقص کرتے ہیں

دل فگاروں سے پوچھ کر دیکھو
کتنی صدیوں میں گھاؤ بھرتے ہیں

جن کو ہے اندمال زخم عزیز
آمد فصل گل سے ڈرتے ہیں

چھپ کے روتے ہیں سب کی نظروں سے
جو گلہ ہے وہ خود سے کرتے ہیں