سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو
پھر چپ کا حسن دیکھو بے کار لب نہ کھولو
نوحہ کناں ہواؤ شعلہ بہ جاں فضاؤ
دیکھو وہ جا رہا ہے جی بھر کے اس کو رو لو
ڈالے رہیں بسیرے خوابوں بھرے اندھیرے
محلوں کی آس رکھو کٹیا کے پٹ نہ کھولو
کوندے لپک رہے ہیں جذبے چمک رہے ہیں
صدیاں بلک رہی ہیں لمحوں کو یوں نہ رولو
ہر فاصلہ بڑا ہے ہر مرحلہ کڑا ہے
سورج اگر ہے پیچھے سائے کے ساتھ ہو لو
گل ہوں بکھر نہ جاؤں پل ہوں گزر نہ جاؤں
تکمیل کر لو اپنی آغوش میں سمو لو
دنیا فقط گماں ہے سب کچھ درون جاں ہے
جاگو ضرور خالدؔ آنکھیں مگر نہ کھولو
غزل
سوچو تو کچھ نہ سمجھو سمجھو تو کچھ نہ بولو
خالد احمد

