EN हिंदी
ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے | شیح شیری
sitam hai wo phir bad-guman ho raha hai

غزل

ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے

عاشق اکبرآبادی

;

ستم ہے وہ پھر بد گماں ہو رہا ہے
پس امتحاں امتحاں ہو رہا ہے

خوشی کیوں نہ ہو قتل ہونے کی مجھ کو
وہ نا مہرباں مہرباں ہو رہا ہے

تصدق تجھی پر زمیں ہو رہی ہے
تجھی پر فدا آسماں ہو رہا ہے

مجھے ہچکیوں نے خبر دی ہے آ کر
مرا ذکر جو کچھ وہاں ہو رہا ہے

چلو سیر کر آئیں جنت کی عاشقؔ
عجب کچھ تماشا وہاں ہو رہا ہے