EN हिंदी
ستم ناروا کو روتے ہیں | شیح شیری
sitam-e-na-rawa ko rote hain

غزل

ستم ناروا کو روتے ہیں

ریاضؔ خیرآبادی

;

ستم ناروا کو روتے ہیں
چرخ تیری جفا کو روتے ہیں

خون رلوا رہی ہے یاد وفا
اک سراپا وفا کو روتے ہیں

اس طرح آئی وقت سے پہلے
آنے والی قضا کو روتے ہیں

اب یہ اس تک پہنچ نہیں سکتا
نالۂ نارسا کو روتے ہیں

بہہ گیا آنکھ سے لہو ہو کر
دل درد آشنا کو روتے ہیں

جان لے کر گیا وہ آخر کار
مرض لا دوا کو روتے ہیں

جانے والے کی یہ نشانی ہے
دیکھ کر نقش پا کو روتے ہیں

درد سا درد ہے بھرا اس میں
ٹوٹے دل کی صدا کو روتے ہیں

روتے جو آئے تھے رلا کے گئے
ابتدا انتہا کو روتے ہیں

رنگ و بو اب کہاں وہ گل ہی نہیں
اس چمن کی ہوا کو روتے ہیں

ہے فضائے چمن غبار آلود
ہم مکدر فضا کو روتے ہیں

خاک میں ملنے کو ہے سب کا حسن
گل رنگیں قبا کو روتے ہیں

مہندی پس کر لہو رلاتی ہے
پسنے والی حنا کو روتے ہیں

نفس سرد یہ بنی بھی تو کیا
موج باد صبا کو روتے ہیں

باغ عالم میں اس طرح بے دید
نرگس نیم وا کو روتے ہیں

چھا گئی کیسی تیرگی ان پر
مہر و مہ کی ضیا کو روتے ہیں

کام آیا نہ یہ کسی کے بھی
خضر آب بقا کو روتے ہیں

چپ ہیں یوں جیسے ان میں جان نہیں
لب معجزنما کو روتے ہیں

اب سوئے آسماں نہیں اٹھتا
اپنے دست دعا کو روتے ہیں

جان کو لے کے ساتھ جانا تھا
اس دل مبتلا کو روتے ہیں

دے گیا داغ غم یہ کون ریاضؔ
ہم غم دیر پا کو روتے ہیں