EN हिंदी
ستارہ چشم ہے اور مہرباں ہے | شیح شیری
sitara-chashm hai aur mehrban hai

غزل

ستارہ چشم ہے اور مہرباں ہے

شاہدہ حسن

;

ستارہ چشم ہے اور مہرباں ہے
وہ میری خاک پر اب آسماں ہے

ترے آگے مرا خاموش ہونا
یقیں کے ٹوٹ جانے کا سماں ہے

حد آئندگاں پر ایک لمحہ
مری مجبوریوں کا راز داں ہے

ہوا سے رشتۂ جاں کیا نبھاؤں
کسی کی یاد ہی جب بد گماں ہے

ترا ملنا نہ ملنا ایک ہی تھا
یہ تنہائی تو اک جوئے رواں ہے