EN हिंदी
سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن) | شیح شیری
sikhaen dast-e-talab ko ada-e-bebaki

غزل

سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی (ردیف .. ن)

مجروح سلطانپوری

;

سکھائیں دست طلب کو ادائے بیباکی
پیام زیرلبی کو صلائے عام کریں

غلام رہ چکے توڑیں یہ بند رسوائی
کچھ اپنے بازوئے محنت کا احترام کریں

زمیں کو مل کے سنواریں مثال روئے نگار
رخ نگار سے روشن چراغ بام کریں

پھر اٹھ کے گرم کریں کاروبار زلف و جنوں
پھر اپنے ساتھ اسے بھی اسیر دام کریں

مری نگاہ میں ہے ارض ماسکو مجروحؔ
وہ سرزمیں کہ ستارے جسے سلام کریں