EN हिंदी
سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا | شیح شیری
sine mein dagh hai tapish-e-intizar ka

غزل

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

آصف الدولہ

;

سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا
اب کیا کروں علاج دل داغدار کا

اس سے مجھے ملاؤ کہ مرتا ہوں ہجر میں
باعث ہے زندگی کا مری وصل یار کا

صیاد اب تو چھوڑ دے آتی ہے فصل گل
دیکھوں گا ہائے کیوں کہ تماشا بہار کا

شاید تمہارے دیں میں ہے اے دلبرو روا
دل چھین لینا عاشق سینہ فگار کا

شبنم نہیں ہے برگ کے اوپر چمن کے بیچ
آصفؔ گرا ہے اشک کسی بے قرار کا