EN हिंदी
سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا | شیح شیری
sina madfan ban jata hai jite jagte raazon ka

غزل

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا

غلام محمد قاصر

;

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا
جانچنا زخموں کی گہرائی کام نہیں اندازوں کا

ساری چابیاں میرے حوالے کیں اور اس نے اتنا کہا
آٹھوں پہر حفاظت کرنا شہر ہے نو دروازوں کا

سامنے کی آواز سے میرے ہر اک رابطے میں حائل
دائیں بائیں پھیلا لشکر انجانی آوازوں کا

آنکھیں آگے بڑھنا چاہیں پیچھے رہ جاتی ہے نظر
پلکوں کی جھالر پہ نمایاں کام ستارہ سازوں کا

یوں تو ایک زمانہ گزرا دل دریا کو خشک ہوئے
پھر بھی کسی نے سراغ نہ پایا ڈوبے ہوئے جہازوں کا