سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے
دل رنگ گلستان تمنا لئے ہوئے
ہے آہ درد و سوز کی دنیا لیے ہوئے
طوفان اشک خون ہے گریہ لئے ہوئے
اک کشتۂ فراق کی تربت پہ نوحہ گر
داغ جگر میں شمع تمنا لئے ہوئے
میں اک طرف ہوں شکل خزاں پائمال یاس
اک سمت وہ بہار کا جلوہ لئے ہوئے
جانا سنبھل کے اے دل بیتاب بزم میں
ہے چشم ناز محشر غم زا لئے ہوئے
سوزاں نہ یہ چمن ہو مرے نور آہ سے
او گلشن جمال کا جلوہ لئے ہوئے
مجنوں سے تو حقیقت صحرائے نجد پوچھ
ہے ذرہ ذرہ جلوۂ لیلیٰ لئے ہوئے
عشق جنوں نواز رہا بزم ناز میں
اک اضطراب و شوق کی دنیا لئے ہوئے
میری تو ہر نگاہ ہے وقف عبودیت
وہ ہر ادا میں حسن کلیسا لئے ہوئے
مرہم سے بے نیاز ہے پنہاںؔ یہ زخم دل
کیا کیا فسوں ہے چشم دل آرا لئے ہوئے

غزل
سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے
پنہاں سپہر آرا خاتون