EN हिंदी
شروع سلسلۂ دید کرنے والا تھا | شیح شیری
shurua silsila-e-did karne wala tha

غزل

شروع سلسلۂ دید کرنے والا تھا

کاوش بدری

;

شروع سلسلۂ دید کرنے والا تھا
تعارف رخ توحید کرنے والا تھا

خود اس کی زود لسانی نے اس کو گنگ کیا
وہ میرے حال پہ تنقید کرنے والا تھا

مزاج یار نے بخشی تھی ایسی یک رنگی
کہاں میں غیر کی تقلید کرنے والا تھا

تو منتہا کو پہنچ کر بھی صفر ہے اب تک
تجھے میں واقف تمہید کرنے والا تھا

ہماری سال میں دو بار جان جاتی ہے
وہ شخص روز ہی اک عید کرنے والا تھا

وہ میرے وعظ سے مسجد میں جب سنبھل نہ سکا
شراب خانے میں تاکید کرنے والا تھا

بچا کے فکر کو تلخابۂ توارد سے
غزل کو خوگر تعقید کرنے والا تھا

وہ ہم پیالہ بھی تھا خواجہ تاش بھی کاوشؔ
جو بات بات پہ تردید کرنے والا تھا