شرک کا پردہ اٹھایا یار نے
ہم کو جب اپنا بنایا یار نے
روز روشن کی طرح دیکھا اسے
گرچہ منہ اپنا چھپایا یار نے
ظاہراً موجود ہے ہر شان سے
ہر طرح رخ کو دکھایا یار نے
خویش و بیگانہ فقط کہنے کو ہے
اپنا دیوانہ بنایا یار نے
بندہ بن جانا فقط چھپنے کو ہے
گھر کو ویرانہ بنایا یار نے
پھیر گردوں سے ہے صورت ہر طرح
جسم کا شانہ بنایا یار نے
تو وہ مرکزؔ ہے خدائی کا ظہور
خط فاصل کو بنایا یار نے

غزل
شرک کا پردہ اٹھایا یار نے
یاسین علی خاں مرکز