EN हिंदी
شکستہ پا کو بھی اب ذوق رہ نوردی ہے | شیح شیری
shikasta-pa ko bhi ab zauq-e-rah-nawardi hai

غزل

شکستہ پا کو بھی اب ذوق رہ نوردی ہے

منموہن تلخ

;

شکستہ پا کو بھی اب ذوق رہ نوردی ہے
دلوں میں ہم نے وہ دھن منزلوں کی بھر دی ہے

گزار کر تری یادوں میں چار دن ہم نے
سمجھ لیا کہ کوئی خاص بات کر دی ہے

مری طلب مری ہستی سے کچھ زیادہ نہ تھی
اگرچہ مجھ پہ یہ تہمت جہاں نے دھر دی ہے

جو راستے نظر آتے ہیں جانے پہچانے
انہیں نے گم شدگی کی ہمیں خبر دی ہے

ملا سراغ حقیقت تو دیکھتا کیا ہوں
کہ اس نے قوت اظہار ختم کر دی ہے

نہ پوچھ آگہیٔ غم کہ یوں ہوا محسوس
دہکتی آگ پہ میں نے زبان دھر دی ہے

بہت بجھی ہوئی باتوں کا بوجھ ہے دل پر
مگر کسی کو بھی کیا تلخؔ نے خبر دی ہے