EN हिंदी
شدت انتظار کام آئی | شیح شیری
shiddat-e-intizar kaam aai

غزل

شدت انتظار کام آئی

شجاع خاور

;

شدت انتظار کام آئی
ان کی تحریر میرے نام آئی

دن میں ہم نے بھلا دیا تھا تجھے
رات لینے کو انتقام آئی

صبح مرکز بنی امیدوں کا
شام مایوسیوں کے کام آئی

دیکھتے دیکھتے ترا چہرہ
خود بہ خود قدرت کلام آئی