EN हिंदी
شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو | شیح شیری
sher kahne ka maza hai ab to

غزل

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو

گوپال متل

;

شعر کہنے کا مزہ ہے اب تو
دل کا ہر زخم ہرا ہے اب تو

اتنا بے صرفہ نہ تھا دل کا لہو
باغ دامن پہ کھلا ہے اب تو

بجھ ہی جائے نہ کہیں دل کا چراغ
واقعی تند ہوا ہے اب تو

زندگی زندگی ہوتی تھی کبھی
مر نہ جانے کی سزا ہے اب تو

تھا کوئی شخص کبھی محرم دل
وہ مجھے بھول چکا ہے اب تو

خوگر شہر ہوئے دیوانے
چاک دامن بھی سیا ہے اب تو

دل کا یہ حال ہمیشہ تو نہ تھا
جانے کیا مجھ کو ہوا ہے اب تو