شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا
پائے تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیا
میں زمزمہ سرا تو چمن سے گیا ولے
افسانہ اک گروہ عنادل میں رہ گیا
زنجیر موج پاؤں میں آ کر لپٹ گئی
طوفانیوں کا دھیان ہی ساحل میں رہ گیا
تصویر اس کی کیسے کھنچی مانیٔ خیال
حیران جس کی شکل و شمائل میں رہ گیا
کام اپنا تو تمام کیا یاس نے ہوسؔ
جی اشتیاق خنجر قاتل میں رہ گیا
غزل
شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا
مرزا محمد تقی ہوسؔ

