EN हिंदी
شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش | شیح شیری
shauq baqi nahin baqi nahin ab josh-o-KHarosh

غزل

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش

ڈاکٹر اعظم

;

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش
دن وہ پر کیف تھے جب ہم تھے سراسر مدہوش

مصلحت جوش بغاوت کو دبا دیتی ہے
دل دھڑکتا ہے مگر دل کی صدائیں خاموش

اب کوئی صورت گفتار نظر آتی نہیں
وہ بھی خاموش مرا رد عمل بھی خاموش

تیری رفتار لگاتار ہو کچھوئے کی طرح
ورنہ رہ جائے گا تو راہ میں مثل خرگوش

زیست کی راہ پہ تنہا نہ کبھی چل پایا
غم جاناں غم دوراں بھی رہے دوش بدوش

سامنا دہر کا تنہا اسے اب کرنے دے
پاؤں میں بیٹے کے آنے لگے تیری پاپوش

بزم اردو سے ہوئی دیر بہت آئے ہوئے
اب تلک سانس میں خوشبو ہے معطر ہیں گوش

اب تو گھر بار میں لگتا ہی نہیں دل اعظمؔ
ایسا لگتا ہے کہ ہو جائیں گے ہم خانہ بدوش