EN हिंदी
شرمندہ نہیں کون تری عشوہ گری کا | شیح شیری
sharminda nahin kaun teri ishwa-gari ka

غزل

شرمندہ نہیں کون تری عشوہ گری کا

رضا عظیم آبادی

;

شرمندہ نہیں کون تری عشوہ گری کا
بے وجہ نہیں منہ کا چھپانا ہے پری کا

جو لب کو ترے دیکھ کے بے ہوش نہ ہووے
دعویٰ اسی کو بھاتا ہے صاحب جگری کا

تم دل ہی میں پلتے رہے ہو سیکھا کہاں سے
اے اشک یہ شیوہ جو لیا پردہ دری کا

جس طرح سنے مجھ سے کہے یار سے جا کر
یہ ڈھب کسی کو آتا ہے پیغامبری کا

پتھر سے ہوں دل یک نگہ گرم میں پانی
ہے عشق سے ایجاد ہنر شیشہ گری کا

چل آئنہ خانے میں کہ ہے زور تماشا
جس طرف نظر کیجئے عالم ہے پری کا

افسوس شب ہجر کی شام آتے ہی مر گئے
کیا کیا تھا بھروسہ ہمیں آہ سحری کا

کر قتل مجھے شوق سے بدنامی سے مت ڈر
دستور نہیں کشتہ پہ یاں نوحہ گری کا

حیران ہوں آئی نہ نظر میں کمر اس کی
دعویٰ تھا مجھے اپنی رضاؔ دیدہ وری کا