شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ
نوائے درد میں شعلے پرو گئے الفاظ
سنا کے داستاں دل دوز وارداتوں کی
نہ جانے کتنوں کے دامن بھگو گئے الفاظ
کبھی کبھی تو کچھ ایسا بھی اتفاق ہوا
تڑپ کے جاگ اٹھے ارماں تو سو گئے الفاظ
ملی نہ جب انہیں ابلاغ کی توانائی
تو آپ اپنے مقدر کو رو گئے الفاظ
اٹھے تو سارے زمانے کی بن گئے آواز
دبے تو آبرو اپنی ڈبو گئے الفاظ
خطیب شہر نے کی بات دوستی کی مگر
دلوں میں تخم عداوت کے بو گئے الفاظ
غزل سرائی منشاؔ پہ یوں ہوا محسوس
کہ جیسے روح کے اندر سمو گئے الفاظ
غزل
شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ
محمد منشاء الرحمن خاں منشاء

