شریک رسم گریہ ہیں سمندر آشنا آنکھیں
جہان آرزو میں کر نہ دیں محشر بپا آنکھیں
یہ پتھر کی نہ ہو جائیں کہیں اقلیم ہستی میں
رکھے محفوظ آشوب تمنا سے خدا آنکھیں
تمہارے وعدۂ شب کا یقیں آتا نہیں ان کو
رہین فتنۂ غم ہیں سکوں نا آشنا آنکھیں
حصار دشت وحشت میں بگولوں کے اشاروں پر
ہتھیلی پر لئے پھرتی ہے مدت سے ہوا آنکھیں
فصیل شہر تاریکی سے جانے کب رہائی ہو
اسیر قریۂ شب ہیں مری سیماب پا آنکھیں
تمہاری شان یکتائی ہے عالم دل فریبی کا
وگرنہ دیکھتی ہیں یوں پس منظر میں کیا آنکھیں
حریم ناز میں تیرا نہ گر جلوہ دکھائی دے
تو بہتر ہے رہ الفت میں ہو جائیں فنا آنکھیں
ہوئی مدت نگاہوں سے چھوا تھا مرمریں چہرہ
طلسم خواب سے اب تک نہ ہو پائیں رہا آنکھیں
مظفرؔ زندگی میں فرض تو اک بار تھا لیکن
طواف کعبۂ دل کر چکی ہیں بارہا آنکھیں

غزل
شریک رسم گریہ ہیں سمندر آشنا آنکھیں
مظفر احمد مظفر