شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے
تیرے رخ پر نگہ پھسلتی ہے
خاک اڑاتی ہے اے صبا میری
بے ادب کس طرح سے چلتی ہے
وہ نہ آیا تو جان جائیں گے
کب طبیعت مری بہلتی ہے
دل نکلتا ہے اس کے گیسو سے
ناگنی دیکھو من اگلتی ہے
نگہ گرم یار دیکھے ہے
کب کسی سے یہ آنکھ جلتی ہے
اک پری رو پہ برقؔ مرتا ہوں
جان اس پر مری نکلتی ہے
غزل
شمع بھی اس صفا سے جلتی ہے
مرزارضا برق ؔ

