EN हिंदी
شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے | شیح شیری
shakl-e-mizhgan na Khaar ki si hai

غزل

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے

شاد لکھنوی

;

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے
ہم نے تاڑی کٹار کی سی ہے

ہنس کے کہتے ہیں بوسہ بازی میں
جیت بھی اپنی ہار کی سی ہے

عشق مژگاں میں ہم نے کانٹوں سے
سوزنی جسم زار کی سی ہے

اس پہ عالم فریب ہے دنیا
پھوس بڑھیا مدار کی سی ہے

گرم رفتار ہے وہ جانے میں
مجھ کو آمد نجار کی سی ہے

اپنی آنکھوں میں ہر گلی تصویر
شادؔ پتلی کمہار کی سی ہے