EN हिंदी
شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا | شیح شیری
shajar bagh-e-jahan ka tha jahan tak sab samar laya

غزل

شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

شجر باغ جہاں کا تھا جہاں تک سب ثمر لایا
مگر اک نخل آہ اس میں نہ ہم نے کچھ اثر پایا

برا تو مانتے ہیں میرے رو رو عرض کرنے پر
بھلا تم نے کبھی کچھ ہنس کے میرے حق میں فرمایا

جہاں اک ہستیٔ بے بود ہے جیوں عکس آئینہ
جو ہم نے غور کر دیکھا تو دھوکا ہی نظر آیا