EN हिंदी
شغل بھی اشک خوں فشانی کا | شیح شیری
shaghl bhi ashk-e-KHun-fishnani ka

غزل

شغل بھی اشک خوں فشانی کا

شعلہ کراروی

;

شغل بھی اشک خوں فشانی کا
کھیل ہے آگ اور پانی کا

جل گیا طور غش ہوئے موسیٰ
کھل گیا حال لن ترانی کا

جان دے کر رہ محبت میں
مل گیا لطف زندگانی کا

آہ دل نے دیا سہارا کچھ
جب بڑھا زور ناتوانی کا

جب سے تصویر تیری دیکھی ہے
رنگ رخ اڑ گیا ہے مانی کا

کچھ سمجھ میں نہ آج تک آیا
فلسفہ موت و زندگانی کا