شفاف سطح آب کا منظر کہاں گیا
آئینہ چور چور ہے پتھر کہاں گیا
روزن کھلا تھا دل کا ہوائیں بھی آئی تھیں
لیکن قریب تر تھا جو دلبر کہاں گیا
اک وہ کہ جس کو فرصت لطف و کرم نہیں
اک میں کہ سوچتا ہوں ستم گر کہاں گیا
سینے سے اس کا ہاتھ ہٹانا محال تھا
جاتے ہوئے وہ ہاتھ ہلا کر کہاں گیا
پہلے یہی تڑپ تھی کہ دستار کیوں گری
اور اب یہ سوچتا ہوں مرا سر کہاں گیا
گھر میں ہوں اور سوچ رہا ہوں نہ جانے کیوں
دیوار و در وہی ہیں مرا گھر کہاں گیا
ساحل پہ آ کے سوچنا انجمؔ فضول ہے
کشتی کہاں گئی وہ سمندر کہاں گیا

غزل
شفاف سطح آب کا منظر کہاں گیا
مشتاق انجم