EN हिंदी
شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں | شیح شیری
shab wasl ki bhi chain se kyunkar basar karen

غزل

شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں

مصطفیٰ خاں شیفتہ

;

شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

محفل میں اک نگاہ اگر وہ ادھر کریں
سو سو اشارے غیر سے پھر رات بھر کریں

طوفان نوح لانے سے اے چشم فائدہ
دو اشک بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں

آز و ہوس سے خلق ہوا ہے یہ نامراد
دل پر نگاہ کیا ہے وہ مجھ پر نظر کریں

کچھ اب کے ہم سے بولے تو یہ جی میں ہے کہ پھر
ناصح کو بھی رقیب سے آزردہ تر کریں

واں ہے وہ نغمہ جس سے کہ حوروں کے ہوش جائیں
یاں ہے وہ نالہ جس سے فرشتے حذر کریں

اہل زمانہ دیکھتے ہیں عیب ہی کو بس
کیا فائدہ جو شیفتہؔ عرض ہنر کریں