شب کو جب یورش وجدان میں آ جاتے ہیں
تیرگی ہم ترے ایوان میں آ جاتے ہیں
جب نظر اٹھتی ہے آواز کے میناروں پر
زاویے دیدۂ حیران میں آ جاتے ہیں
کچھ ہوائیں بھی اڑا لائیں نشان نسیاں
کچھ ستارے مرے دامان میں آ جاتے ہیں
تذکرہ ہونے لگا ضبط کی محرابوں پر
شور تلخویش مرے کان میں آ جاتے ہیں
آئنے منظر شب تاب لئے پھرتے ہیں
زلزلے چشم بیابان میں آ جاتے ہیں
بڑھ کے اب دستک آواز لگاؤ عامرؔ
در دریچے حد امکان میں آ جاتے ہیں
غزل
شب کو جب یورش وجدان میں آ جاتے ہیں
عامر نظر

