EN हिंदी
شب کو جب یورش وجدان میں آ جاتے ہیں | شیح شیری
shab ko jab yurish-e-wijdan mein aa jate hain

غزل

شب کو جب یورش وجدان میں آ جاتے ہیں

عامر نظر

;

شب کو جب یورش وجدان میں آ جاتے ہیں
تیرگی ہم ترے ایوان میں آ جاتے ہیں

جب نظر اٹھتی ہے آواز کے میناروں پر
زاویے دیدۂ حیران میں آ جاتے ہیں

کچھ ہوائیں بھی اڑا لائیں نشان نسیاں
کچھ ستارے مرے دامان میں آ جاتے ہیں

تذکرہ ہونے لگا ضبط کی محرابوں پر
شور تلخویش مرے کان میں آ جاتے ہیں

آئنے منظر شب تاب لئے پھرتے ہیں
زلزلے چشم بیابان میں آ جاتے ہیں

بڑھ کے اب دستک آواز لگاؤ عامرؔ
در دریچے حد امکان میں آ جاتے ہیں