EN हिंदी
شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے | شیح شیری
shab ke hain mah mehr hain din ke

غزل

شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے

منیرؔ  شکوہ آبادی

;

شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کے
روپ دیکھے بتان کمسن کے

بوسے ہیں بے حساب ہر دن کے
وعدے کیوں ٹالتے ہو گن گن کے

ہیں وہ دیوانے جذب باطن کے
اتری ہے شیشہ میں پری جن کے

اہل دل دیکھتے ہیں آپ کا منہ
آئنے میں صفائی باطن کے

دل رواں ہو خیال یار کے ساتھ
جائے مسکن بھی ساتھ ساکن کے

لاغروں پر ہے ظلم جاں شکنی
اے اجل توڑتی ہے کیوں تنکے

رہے کلکتہ میں مخیر منیرؔ
صدقے اپنے امام ضامن کے