EN हिंदी
شب غم کی سحر نہیں ہوتی | شیح شیری
shab-e-gham ki sahar nahin hoti

غزل

شب غم کی سحر نہیں ہوتی

رام کرشن مضطر

;

شب غم کی سحر نہیں ہوتی
داستاں مختصر نہیں ہوتی

جب کسی کی نظر نہیں ہوتی
ہم کو اپنی خبر نہیں ہوتی

بعض اوقات اپنے دل پر بھی
اہل دل کی نظر نہیں ہوتی

ڈگمگاتے نہیں قدم جس جا
وہ تری رہ گزر نہیں ہوتی

جس مسرت میں غم نہ ہو شامل
وہ کبھی معتبر نہیں ہوتی

درد جب خود ہی اپنا درماں ہو
منت چارہ گر نہیں ہوتی

دل مضطرؔ سے جو نکلتی ہے
وہ صدا بے اثر نہیں ہوتی