EN हिंदी
شب فراق میں یہ دل سے گفتگو کیا ہے | شیح شیری
shab-e-firaq mein ye dil se guftugu kya hai

غزل

شب فراق میں یہ دل سے گفتگو کیا ہے

جاوید لکھنوی

;

شب فراق میں یہ دل سے گفتگو کیا ہے
مری امید ہیں وہ ان کی آرزو کیا ہے

رگیں تمام بدن کی ادھر کو کھینچتی ہیں
کسی کا ہاتھ قریب‌ رگ گلو کیا ہے

شکست‌ آبلۂ پا نے آبرو رکھ لی
کھلا نہ حال کہ پانی ہے کیا لہو کیا ہے

میں اپنی موت پہ راضی وہ لاش اٹھانے پر
اب آگے دیکھنا ہے مرضیٔ عدو کیا ہے

یہ کس کو آئنہ میں آپ دیکھے جاتے ہیں
جہاں میں آپ سے بھی کوئی خوبرو کیا ہے

سبب بھی پوچھ لو ان کی ضدوں سے اے جاویدؔ
رلا رلا کے ہنسائیں یہ ان کی خو کیا ہے