شانے کا بہت خون جگر جائے ہے پیارے
تب زلف کہیں تا بہ کمر جائے ہے پیارے
جس دن کوئی غم مجھ پہ گزر جائے ہے پیارے
چہرہ تیرا اس روز نکھر جائے ہے پیارے
اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں
تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیارے
رہنے دے جفاؤں کی کڑی دھوپ میں مجھ کو
سائے میں تو ہر شخص ٹھہر جائے ہے پیارے
وہ بات ذرا سی جسے کہتے ہیں غم دل
سمجھانے میں اک عمر گزار جائے ہے پیارے
ہر چند کوئی نام نہیں میری غزل میں
تیری ہی طرف سب کی نظر جائے پیارے
غزل
شانے کا بہت خون جگر جائے ہے پیارے
کلیم عاجز

