شاخ پر پھول فلک پر کوئی تارا بھی نہیں
میں بھی تنہا ہوں بہت کوئی تمہارا بھی نہیں
ایک تو مڑ کے نہ جانے کی اذیت تھی بہت
اور اس پر یہ ستم کوئی پکارا بھی نہیں
کہہ رہا تھا کہ محبت میں تکلم کیسا
میں جو چونکا تو کہاں اذن اشارا بھی نہیں
عمر مابعد اگر تیرے علاوہ کچھ ہے
پھر تو میں اب بھی نہیں اور دوبارا بھی نہیں
غزل
شاخ پر پھول فلک پر کوئی تارا بھی نہیں
عباس تابش

