EN हिंदी
شاخ پر پھول فلک پر کوئی تارا بھی نہیں | شیح شیری
shaKH par phul falak par koi tara bhi nahin

غزل

شاخ پر پھول فلک پر کوئی تارا بھی نہیں

عباس تابش

;

شاخ پر پھول فلک پر کوئی تارا بھی نہیں
میں بھی تنہا ہوں بہت کوئی تمہارا بھی نہیں

ایک تو مڑ کے نہ جانے کی اذیت تھی بہت
اور اس پر یہ ستم کوئی پکارا بھی نہیں

کہہ رہا تھا کہ محبت میں تکلم کیسا
میں جو چونکا تو کہاں اذن اشارا بھی نہیں

عمر مابعد اگر تیرے علاوہ کچھ ہے
پھر تو میں اب بھی نہیں اور دوبارا بھی نہیں