EN हिंदी
سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر | شیح شیری
sehr kaisa ye nai rut ne kiya dharti par

غزل

سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر

رفیق راز

;

سحر کیسا یہ نئی رت نے کیا دھرتی پر
مدتوں بعد کوئی پھول کھلا دھرتی پر

جانے اس کرۂ تاریک میں ہے نور کہاں
جانے کس آنکھ میں ہے خواب ترا دھرتی پر

آسمانوں سے خموشی بھی کبھی نازل کر
روز کرتے ہو نیا حشر بپا دھرتی پر

آسمانوں میں الجھتے ہو سیہ ابر سے کیوں
آ فقیروں کی طرح خاک اڑا دھرتی پر

اب بھی ہلتا ہے مرا نخل بدن سر تا پا
اب بھی چلتی ہے ہوس ناک ہوا دھرتی پر

کوئی آواز کہیں سے بھی نہیں آتی ہے
قاف تا قاف ہے کیسا یہ خلا دھرتی پر

اب بھی وابستہ ہیں امیدیں تمہیں سے ہم کو
اب بھی ہوتی ہے تری حمد و ثنا دھرتی پر

ہجر کی زرد ہوا یوں ہی اگر چلتی رہے
ایک بھی پیڑ رہے گا نہ ہرا دھرتی پر