سوال عشق پر تا حشر چپ رہنا پڑا مجھ کو
ہر اک الزام کو ہنستے ہوئے سہنا پڑا مجھ کو
کبھی مغرور طوفانوں کو بھی ٹھکرا دیا میں نے
کبھی اک موج غم کے ساتھ ہی بہنا پڑا مجھ کو
سکون دل بڑی دولت سہی اے ہم نشیں لیکن
سکوں پا کر بھی اکثر مضطرب رہنا پڑا مجھ کو
زمانہ کس قدر بے گانۂ رسم محبت تھا
یہاں تو خود سے بھی نا آشنا رہنا پڑا مجھ کو
روشؔ اس بزم رنگیں میں سکوت غم کا افسانہ
کہا جاتا نہ تھا مجھ سے مگر کہنا پڑا مجھ کو
غزل
سوال عشق پر تا حشر چپ رہنا پڑا مجھ کو
روش صدیقی

