EN हिंदी
سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی | شیح شیری
sawad-e-sham se ta-subh-e-be-kinar gai

غزل

سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی

شاہدہ حسن

;

سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی
ترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی

کہاں کے خواب کہ آنکھوں سے تیرے لمس کے بعد
ہزار رات گئی اور بے شمار گئی

میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی

کمال کم نگہی ہے یہ اعتبار ترا
وہی نگاہ بہت تھی جو دل کے پار گئی

عجب سا سلسلۂ نارسائی ساتھ رہا
میں ساتھ رہ کے بھی اکثر اسے پکار گئی

خبر نہیں کہ یہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں میں
وہاں تلک میں گئی ہوں کہ رہ گزار گئی