EN हिंदी
ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا | شیح شیری
sata kar sitam-kash ko kya paiyega

غزل

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

;

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا
جو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا

وہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ
وہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا

ادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر
سمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا

غریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا
دل ناتواں کو نہ ٹھکرائیے گا

خبر بھی ہے کچھ بار عصیاں کی شوقؔ
ہوئی واں جو پرسش تو شرمایئے گا