EN हिंदी
سرو و سمن بھی موج نسیم سحر بھی ہے | شیح شیری
sarw-o-saman bhi mauj-e-nasim-e-sahar bhi hai

غزل

سرو و سمن بھی موج نسیم سحر بھی ہے

معین احسن جذبی

;

سرو و سمن بھی موج نسیم سحر بھی ہے
اے گل ترے چمن میں کوئی چشم تر بھی ہے

سایہ ہے زندگی پہ وہ یاس و امید کا
ہر شب شب دراز بھی ہے مختصر بھی ہے

کچھ دیر پی لیں کاکل‌ و عارض کی چھاؤں میں
جادوئے شام بھی ہے فسون سحر بھی ہے

دنیا سنے تو قصۂ غم ہے بہت طویل
ہاں تم سنو تو قصۂ غم مختصر بھی ہے