سر و گردن کی جدائی دیکھو
تیغ قاتل کی صفائی دیکھو
تیغ لچکا کے اٹھائی دیکھو
نہ مڑک جائے کلائی دیکھو
مجھ سے کہتا ہے لہو مل کے مرا
یہ مرے دست حنائی دیکھو
محفل یار تلک پہنچایا
میری قسمت کی رسائی دیکھو
ٹوٹ جائے نہ ہماری توبہ
پھر گھٹا چرخ پہ چھائی دیکھو
میں کہاں اور کہاں رفعت عرش
مگر آہوں کی رسائی دیکھو
کیوں بگڑتے ہو کسی سے عالمؔ
اپنی قسمت کی برائی دیکھو
غزل
سر و گردن کی جدائی دیکھو
میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

