EN हिंदी
سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا | شیح شیری
sar mein ek sauda tha baam-o-dar banane ka

غزل

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا

شفیق سلیمی

;

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا
آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا

یوں نہ رینگتی رہتیں کاغذوں پہ تصویریں
وقت جو ملا ہوتا بال و پر بنانے کا

یوں کہاں بھٹکتے ہم خواہشوں کے صحرا میں
فن اگر ہمیں آتا مال و زر بنانے کا

چل دیے اکیلے ہی جستجوئے منزل میں
کام خاصا مشکل تھا ہم سفر بنانے کا

یہ ہنر بھی آخر کو اس نے سیکھ کر چھوڑا
ہم سے ہوش مندوں کو بے خبر بنانے کا

ایک شوق ایسا بھی ہم نے پال رکھا ہے
بے وقار لوگوں کو معتبر بنانے کا