سر احاطۂ غم رات بھر سنورنا تھا
تری جدائی میں کار ہنر بھی کرنا تھا
افق قریب تھا ہمت کی سرخ روئی کا
لہو میں ڈوب کے دریا کو پار اترنا تھا
ہمیں تھی کون سی سجدے کی آرزو تم سے
مگر دعا میں کبھی ہم کو یاد کرنا تھا
اگر میں برگ سحر ہوں تو تم کو تھوڑی دیر
مثال قطرۂ شبنم یہاں ٹھہرنا تھا
جواب کا تو پتہ تھا ہمیں مگر پھر بھی
لب سوال ملا تھا سوال کرنا تھا
وہ لوگ ساحل شب پر بکھر گئے کیسے
انہیں تو آئنۂ صبح میں سنورنا تھا
غزل
سر احاطۂ غم رات بھر سنورنا تھا
مظہر امام

