EN हिंदी
سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو | شیح شیری
sang aur KHisht-e-malamat se bacha lo mujhko

غزل

سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو

کاوش بدری

;

سنگ اور خشت ملامت سے بچا لو مجھ کو
اپنے دربار کی دیوار بنا لو مجھ کو

پارہ پارہ ہو انا اور سر مغرور فنا
گیند کی طرح فضاؤں میں اچھالو مجھ کو

لقمۂ تر نے مرے نفس کو برباد کیا
یاد کرتے رہو کنکر کے نوالو مجھ کو

جانے کس قبر کا ہے پیکر خالی میرا
میں کھلونا ہوں تو بس توڑ ہی ڈالو مجھ کو

دشت پر خار میں ہوں اک شجر خام ابھی
اپنی دہلیز کا تختہ ہی بنا لو مجھ کو

اک نظر ایک نظر ایک نظر ایک نظر
صرف دزدیدہ نظر ڈال کے ٹالو مجھ کو

کاوشمؔ کیا ہے سمجھ میں کبھی آ جائے گا
غم زدہ گیت سمجھ کر کبھی گا لو مجھ کو