EN हिंदी
سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک | شیح شیری
samundar tishnagi wahshat rasai chashma-e-lab tak

غزل

سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک

شہرام سرمدی

;

سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک
یہ سارا کھیل ان آنکھوں سے دیکھا تیرے کرتب تک

تماشا گاہ دنیا میں تماشائی رہے ہم بھی
سحر کی آرزو ہم نے بھی کی تھی جلوۂ شب تک

نہ جانے وقت کا کیا فیصلہ ہے دیر کتنی ہے
گھڑی کی سوئیاں بھی ہو چکی ہیں مضمحل اب تک

کبھی فرصت ملی تو آسماں سے ہم یہ پوچھیں گے
رہے گا تو ہمارے سر پہ یوں ہی مہرباں کب تک

خدا جانے کہاں تک کامیابی ہاتھ آئی ہے
کہ اپنی بات تو پہنچا چکا اپنے مخاطب تک