EN हिंदी
سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں | شیح شیری
samajh ghar yar ka main shah-nashin-e-dil ko dhota hun

غزل

سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں

مرزا اظفری

;

سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں
کہیں ہیں لوگ دیوانے کہ دیوانہ ہوں روتا ہوں

بجھائے اشک یہ خوں کے جو فوارے اچھلتے ہیں
مژہ سے یار کے لے نشتر آنکھوں میں چبھوتا ہوں

مدد اے خضر گریہ غرق کریو ناؤ دل آج ہی
یہ ہے ڈبوانے والا میں اسے پہلے ڈبوتا ہوں

بت سنگین دل کی دیکھ تصویر آنکھیں پتھرائیں
ٹھٹک ہوں نقش قالیں سا نہ روتا ہوں نہ سوتا ہوں

میں کوئے میکشان و مہوشاں کے متصل پہنچا
خبردار اے حریفو اب حواس و ہوش کھوتا ہوں

مبادا میرے گل رو کا گل رخسار مرجھاوے
پھوار اے اظفریؔ دے آنسوؤں کی میں بھگوتا ہوں