سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
مجھے یاد آنے والے تو کہاں ہے
خدائی کہکشاں کہتی ہے جس کو
وہ عذرا کا خرام رائیگاں ہے
اندھیرے بادلوں سے پوچھ زاہد
مری کھوئی ہوئی توبہ کہاں ہے
یہ کس نے پیار کی نظروں سے دیکھا
کہ میرے دل کی دنیا پھر جواں ہے
جوانی رائیگاں جائے تو اچھا
جوانی ایک خواب رائیگاں ہے
غزل
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
اختر شیرانی

