EN हिंदी
سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے | شیح شیری
sama kar dil mein nazron se nihan hai

غزل

سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے

اختر شیرانی

;

سما کر دل میں نظروں سے نہاں ہے
مجھے یاد آنے والے تو کہاں ہے

خدائی کہکشاں کہتی ہے جس کو
وہ عذرا کا خرام رائیگاں ہے

اندھیرے بادلوں سے پوچھ زاہد
مری کھوئی ہوئی توبہ کہاں ہے

یہ کس نے پیار کی نظروں سے دیکھا
کہ میرے دل کی دنیا پھر جواں ہے

جوانی رائیگاں جائے تو اچھا
جوانی ایک خواب رائیگاں ہے