سیل بلائے غم نہ پوچھ کتنے گھروندے ڈھ گئے
ناؤ تو خیر ناؤ تھی ساتھ کنارے بہہ گئے
دل میں ہجوم شوق تھا لب پہ نہ بات آ سکی
ابر فلک پہ کھل گئے بیج زمیں پہ رہ گئے
کس میں تھی تاب زخم شوق کس میں تھا غم کا حوصلہ
ہم ہی یہ دکھ اٹھا گئے ہم ہی یہ درد سہہ گئے
ہم سفران شوق نے راہ میں ہار مان لی
دشت شب فراق میں ہم ہی اکیلے رہ گئے
محسنؔ بے نوا کو بھی داد کمال دیجئے
وہ بھی حدیث درد جاں اپنی غزل میں کہہ گئے
غزل
سیل بلائے غم نہ پوچھ کتنے گھروندے ڈھ گئے
محسن احسان

