EN हिंदी
صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو | شیح شیری
sahra mein diwar banana jaane kaisa ho

غزل

صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو

خالد احمد

;

صحرا میں دیوار بنانا جانے کیسا ہو
اور پھر اس سے سر ٹکرانا جانے کیسا ہو

یہ رستے جو ہم نے پگ پگ آپ بکھیرے ہیں
ان رستوں سے لوٹ کے جانا جانے کیسا ہو

جس کی پوریں دل کی اک اک دھڑکن گنتی ہیں
جس کو ہم نے خود گردانا جانے کیسا ہو

اس کے سامنے ہم کیا جانیں دل پر کیا گزرے
نام تک اپنا یاد نہ آنا جانے کیسا ہو

اس کی نگاہ میں آنا کوئی چھوٹی بات نہیں
اس کے دل میں راہ بھی پانا جانے کیسا ہو

ہم کیا جانیں پار لگیں یا آر رہیں خالدؔ
رہ گم کردہ مر کھپ جانا جانے کیسا ہو