EN हिंदी
صحرا کی دھوپ میں بھی شجر دیکھتے رہے | شیح شیری
sahra ki dhup mein bhi shajar dekhte rahe

غزل

صحرا کی دھوپ میں بھی شجر دیکھتے رہے

جاذب قریشی

;

صحرا کی دھوپ میں بھی شجر دیکھتے رہے
کیا لوگ تھے دعا کا اثر دیکھتے رہے

ہم اپنے جسم و جاں کو خزاں میں اتار کر
گلنار موسموں کے ہنر دیکھتے رہے

بارش کی عادتوں کا بدلنا محال تھا
جلتے ہوئے ہم اپنے ہی گھر دیکھتے رہے

جب بھی ترے بدن کی مہک ہم سفر رہی
ہم بے چراغ شب میں سحر دیکھتے رہے

اک شہر مہوشاں تھا کہ آنکھوں کے ساتھ تھا
ہم پھر بھی تیری راہ گزر دیکھتے رہے

جاذبؔ میں تیرے پیار کی خواہش شدید تھی
جاذبؔ کو اہل نقد و نظر دیکھتے رہے