سگ لیلیٰ کے نقش پا ہیں ہم
یعنی مجنوں کے رہنما ہیں ہم
کیوں نہ ہو دشمنوں کے گھر ماتم
دوست کے کشتۂ جفا ہیں ہم
تم کو دل کی بھی ہے کسو کے خبر
دل میں خوش ہو کہ دل ربا ہیں ہم
جس قدر ہم کو سمجھئے بے قدر
قدر میں اس سے بھی سوا ہیں ہم
کیوں نہ مٹی خراب ہو اپنی
اس خرابات کی بنا ہیں ہم
کس سے رکھیے غبار اے معروفؔ
ایک عالم کی خاک پا ہیں ہم
غزل
سگ لیلیٰ کے نقش پا ہیں ہم
معروف دہلوی

