سفاک سراب سے زیادہ
ہے عشق عذاب سے زیادہ
مقتول کے چہرے پر چمک تھی
تلوار کی آب سے زیادہ
میں اہل کتاب کو ہمیشہ
پڑھتا ہوں کتاب سے زیادہ
کیا رنگ دکھائے ہم جو چاہیں
کانٹے کو گلاب سے زیادہ
اترا وہ رگوں میں زہر جس میں
نشہ ہے شراب سے زیادہ
مانوس ہیں غم کمالؔ شاید
مجھ خانہ خراب سے زیادہ
غزل
سفاک سراب سے زیادہ
حسن اکبر کمال

