EN हिंदी
سفر کے لاکھ حیلے ہیں | شیح شیری
safar ke lakh hile hain

غزل

سفر کے لاکھ حیلے ہیں

فرحت عباس شاہ

;

سفر کے لاکھ حیلے ہیں
یہ دریا تو وسیلے ہیں

کہاں سے ہو کے آئی ہے
ہوا کے ہاتھ پیلے ہیں

ڈسا ہے ہجر نے ہم کو
ہمارے سانس نیلے ہیں

خدایا خشک رت میں بھی
ہمارے نین گیلے ہیں

میں شاعر ہوں محبت کا
مرے دکھ بھی رسیلے ہیں

ابھی تو جنگ جاری ہے
مگر اعصاب ڈھیلے ہیں