سفر کے لاکھ حیلے ہیں
یہ دریا تو وسیلے ہیں
کہاں سے ہو کے آئی ہے
ہوا کے ہاتھ پیلے ہیں
ڈسا ہے ہجر نے ہم کو
ہمارے سانس نیلے ہیں
خدایا خشک رت میں بھی
ہمارے نین گیلے ہیں
میں شاعر ہوں محبت کا
مرے دکھ بھی رسیلے ہیں
ابھی تو جنگ جاری ہے
مگر اعصاب ڈھیلے ہیں
غزل
سفر کے لاکھ حیلے ہیں
فرحت عباس شاہ

