EN हिंदी
سفر کرو تو اک عالم دکھائی دیتا ہے | شیح شیری
safar karo to ek aalam dikhai deta hai

غزل

سفر کرو تو اک عالم دکھائی دیتا ہے

سہیل احمد زیدی

;

سفر کرو تو اک عالم دکھائی دیتا ہے
قد اپنا پہلے سے کچھ کم دکھائی دیتا ہے

میں خشک شاخ خزاں پہ یونہی نہیں بیٹھا
یہاں سے ابر کا پرچم دکھائی دیتا ہے

مگر تنا ہوا رہتا ہے کم نصیبوں سے
یہ آسماں جو تمہیں خم دکھائی دیتا ہے

ہر ایک ہاتھ میں پتھر کہاں سے آئیں گے
تمام شہر تو برہم دکھائی دیتا ہے

خود اپنے زخم پہ اتنا حزیں نہ ہو کہ سہیلؔ
صف عدو میں بھی ماتم دکھائی دیتا ہے